کیا سام سنگ کا نیا فون دونوں طرف فولڈ ہوسکے گا؟

کیا سام سنگ کا نیا فون دونوں طرف فولڈ ہوسکے گا؟

موبائل بنانے والی جنوبی کوریاکمپنی سام سنگ دو جانب فولڈ ایبل (یعنی دونوں طرف مڑنے والے) اسمارٹ فون بنانے کی تیاری کررہا ہے۔

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنا پہلا مڑنے والا (فولڈ ایبل) سمارٹ فون مائیکروسافٹ سرفیس ڈیوو حال ہی میں متعارف کروایا ہے جس کی خاص بات یہی ہے کہ وہ دونوں طرف سے 360 ڈگری پر مڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مائیکروسافٹ سرفیس ڈیوو 10 ستمبر سے مارکیٹ میں لانچ ہوگا اور اس کی قیمت پاکستانی روپے میں تقریباً 2 لاکھ 32 ہزار ہے۔
دوسری جانب سام سنگ نے بھی حال ہی میں اپنی فولڈ ایبل سیریز کا دوسرا اسمارٹ فون گلیکسی زیڈ فولڈ 2 بھی متعارف کروایا دیا ہے جو کہ 18 ستمبر سے عام مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ 

سام سنگ کے اس فون کی قیمت تقریباً 3 لاکھ 31 ہزار پاکستانی روپے ہے جو کہ مائیکروسافٹ سرفیس ڈیوو سے کئی درجہ زیادہ ہے۔

سام سنگ کا گلیکسی زیڈ فولڈ 2 بھی جدیدفیچر کا حامل ہے جو کہ موبائل فون اور ٹیبلٹ دونوں موڈز میں استعمال ہوسکتا ہے۔

سام سنگ کا نیا سمارٹ فون بغیر کسی رکاوٹ اور آواز کے فولڈ ہوسکتا ہے اور اس میں اندورنی ڈبل اسکرین کے علاوہ ایک اضافی بیرونی ڈسپلے بھی لگایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے فون کے بنیادی فیچرز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سمارٹ فون کے صارفین جہاں دونوں کمپنیوں کے نئے فونز کے فیچرز کے ساتھ ان کی قیمتوں کے فرق پر بھی بات چیت کررہے ہیں وہیں افواہیں بھی سرگرم ہیں  سام سنگ نے اب فولڈ ایبل سیریز کے تیسرے فون پر کام شروع کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سام سنگ کا گلیکسی زیڈ فولڈ ایس 2021 تک مارکیٹ میں لانچ گا۔ اور یہ فون بھی مائیکروسافٹ سرفیس ڈیوو کی طرح دونوں اطراف فولڈکیاجاسکتا ہے۔

گلیکسی زیڈ فولڈ ایس کے متعلق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس فون کی قیمت بھی مناسب ہوگی جب کہ مائیکروسافٹ سرفیس ڈیوو کے ڈبل اسکرین کے مد مقابل میں اس کی سنگل اور لچک دار سکرین ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل خود سام سنگ کے علاوہ موٹرولا اور ہواوے نے بھی فولڈ ایبل سمارٹ فون لانچ کرچکے ہیں۔

ہمیں پوری اُمید ہے کہ آپکو آج کہ یہ پوسٹ بھی پسند آئی ہو گی۔اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں۔

:مزید پوسٹ

تین ہفتے تک چارج رہنے والا کمال کا فٹنس ٹریکر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *